قومی

دو برس میں 14 ارب ڈالر ٹیکس جمع، نیا آپریٹنگ ماڈل متعارف، ٹیکس گزار اور افسر کے درمیان تعلق ختم ہوگا، وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ایف بی آر نے 14ارب ڈالرز کا اضافی ٹیکس ریونیو جمع کیا جو 1988ء سے 2011ء تک، یعنی 23 برس کے عرصے میں اور پھر 2011ء سے 2024ء تک کے برسوں میں بھی جمع ہو ا تھا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ایک نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل متعارف کروا رہی ہے، جس کے تحت ٹیکس گزار اور ٹیکس افسران کے درمیان براہِ راست ختم ہوگا۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے گزشتہ بجٹ میں ہی سمت واضح کر دی جس کے باعث معاشی استحکام آیا، ہماری صنعتیں رواں دواں ہیں اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ سرپلس ہے، ہمارا برآمدی شعبہ بہتری دکھا رہا ہے، آئی ٹی ایکسپورٹ میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے، یہ معاشی شرح نمو بڑھانے والا بجٹ ہے، ملک میں ترقی ہوگی، عوام کو ریلیف ملے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اصلاحات سے معاشی استحکام آیا ہے، معیشت کا حجم 452 ارب ڈالرز رہنے کا تخمینہ ہے، اس سال ریکارڈ 41 ارب ڈالرز کے ترسیلات زر کا ہدف حاصل کریں گے، زرعی پیداوار میں اضافہ اور چھوٹے کاشتکاروں کو سہولت دینے کے لیے ایک مربوط زرعی اسکیم شروع کی گئی ہے جس کے تحت 300 ارب روپے کے بلاسود اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، اس سکیم سے تقریباً ساڑھے 7لاکھ چھوٹے کسان مستفید ہونگے،اسی طرح زرعی شعبے میں مالی معاونت کے لیے 109 ارب روپے سے زائد کے قرضوں کی فراہمی کا منصوبہ ہے، جبکہ سبسڈی کی مد میں اس بجٹ میں بھی خاطر خواہ رقم مختص کی گئی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ کھاد خصوصاََ یوریا پر تقریبا 10 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے، وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت زراعت اور لائیو اسٹاک کے منصوبوں کے لیے 4.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات بجٹ کا حصہ بنیں گی۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے جنگ رکوا کر بڑا کارنامہ سرانجام دیا، ہماری کوششیں رنگ لائیں اور خطے میں جنگ کے بادل چھٹ گئے جس کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف اور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے