اہم خبریںدنیا

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ، عراق پر امریکی اور سعودی بمباری، مصر میں ڈرون حملہ، بحیرہ احمر میں نیا معاشی اقدام

مشرق وسطیٰ کی جنگ دیگرعلاقوں تک پھیلنے لگی‘ امریکا اورسعودی عرب نے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف حملے کیے ہیںجس کی تہران نے شدیدمذمت کی ہےجبکہ بغداد نے حملوں کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قراردیدیا ‘ پاپولر موبلائزیشن فورسز(حشدالشعبی ) کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب عراق میں اس کے ٹھکانوں پرحملوں میں 5ایرانی مشیروں سمیت اس کے کم از کم 20 ارکان ہلاک اور32زخمی ہو گئے ہیں۔ادھرڈرون حملے کے نتیجے میں مصر کی دمیاط بندرگاہ پردھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں امریکی اور یونانی گیس ٹینکرز میں آگ بھڑک اٹھی اورآپریشنزمعطل ہوگئے‘عراقی وزیر اعظم علی فالح الزیدی نے سعودی اورامریکی فضائی حملوں کے بعد ہنگامی سکیورٹی اجلاس طلب کرلیاجبکہ آج جدہ میں عراقی وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی گئی ہے۔عراق کی قومی سلامتی کونسل نے وزارت خارجہ کو امریکا اور سعودی عرب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کی ہدایت کی ہے۔عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ کتائب حزب اللہ نے خبردار کیاہے کہ واشنگٹن اور ریاض کونتائج کا سامنا کرنا پڑیگا‘ذرائع کے مطابق سعودی عرب بحیرہ احمر میں حوثی حملوں سے جہاز رانی کا تحفظ کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ایرانی عہدیدار کے مطابق شمال مغربی شہر پیران شہرمیں امریکی فضائی حملہ ہواہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔پاسداران انقلاب کے مطابق اس نے ہرمز میں تین آئل ٹینکرز جبکہ امریکی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں اردن میں امریکی فوج کے فضائی اڈے اور مرکزی کمان کے مرکز کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایاہے ‘صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اردن میں امریکی اڈوں پرحملے کی ایران کو بھاری قیمت چکانا ہو گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے