جے ڈی وینس نے ٹرمپ سے دوری اختیار کر لی؛ وجہ ایران جنگ پر اختلافات اور انتخابی شکست-
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بڑی شکست کے بعد ایران جنگ کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے خود کو صدر کے فیصلے سے الگ کر لیا ہے۔
دی نیوز اٹرنیشنل نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جے ڈی وینس نے ایران کی غیر مقبول جنگ، مہنگائی اور امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق عوامی خدشات کو پارٹی کی شکست کی وجوہات قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ پارٹی کی شکست کی اصل وجہ تقریباً سب کے لیے واضح ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایران جنگ کی وجہ سے اگلے 6 سال کے لیے سینیٹ کا کنٹرول کھونا درست فیصلہ تھا؟
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی کارروائی کا دفاع جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی ضروری تھی اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
ڈیموکریٹک پارٹی نے جے ڈی وینس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نائب صدر پہلے ایران جنگ کے فیصلوں کی حمایت کرتے رہے ہیں اور اب شکست کے بعد خود کو ان فیصلوں سے الگ کر رہے ہیں۔
ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کی ترجمان روزمیری بوگلین نے سوال اٹھایا کہ وینس نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا اور امریکی عوام کے حق میں آواز کیوں نہیں اٹھائی؟
واضح رہے کہ جے ڈی وینس نے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی میں تبدیلیوں کا بھی عندیہ دیا تھا اور ایسے کاروباروں کی سخت نگرانی کی تجویز دی تھی جو غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملازمت دیتے ہیں۔
یہ اختلافات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب جے ڈی وینس 2028ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر غور کر رہے ہیں جبکہ وسط مدتی انتخابات میں کامیابی کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول سنبھال چکی ہے۔
