قومی

خیبرپختونخوا کی جامعات کی پہلی صوبائی رینکنگ جاری، آئی ایم سائنسز سرفہرست

جرنلسٹ واجد شہزاد

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے صوبے کی جامعات کی پہلی جامع رینکنگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات، معیار کی بہتری اور جامعات کی کارکردگی جانچنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، سول سیکرٹریٹ پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مینا خان آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک کا پہلا صوبہ ہے جس نے جامعات کی باقاعدہ رینکنگ کا نظام متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رینکنگ کے عمل پر تین سے چار ماہ تک کام کیا گیا، وائس چانسلرز اور جامعات سے مشاورت کی گئی جبکہ ایک خصوصی کمیٹی نے عالمی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے 12 اشاریوں (انڈیکیٹرز) کی بنیاد پر یہ رینکنگ مرتب کی۔انہوں نے کہا کہ رینکنگ سے یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ کون سی جامعات بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور کن اداروں کو مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے قیام کے وقت صوبے میں 19 جامعات تھیں جبکہ اب ان کی تعداد 34 ہو چکی ہے اور جلد اسے 36 تک بڑھایا جائے گا۔وزیر اعلیٰ تعلیم نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن کا بجٹ 25 ارب روپے سے بڑھا کر 50 ارب روپے کیا گیا ہے جبکہ آئندہ مالی سال میں اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ہائر ایجوکیشن کے شعبے میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ وسائل فراہم کر رہا ہے۔رینکنگ کے نتائج کے مطابق جنرل یونیورسٹیز میں آئی ایم سائنسز پشاور پہلے، ہزارہ یونیورسٹی دوسرے اور پاک آسٹریا فاخ ہوخ شُول انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی تیسرے نمبر پر رہی۔ 2011 سے قبل قائم ہونے والی جامعات میں بھی آئی ایم سائنسز نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ ٹیکنیکل یونیورسٹیز میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) سرفہرست رہی۔ نجی جامعات میں جی آئی کے انسٹیٹیوٹ صوابی نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ آئندہ یہ رینکنگ ہر سال کی جائے گی اور بہتر کارکردگی دکھانے والی جامعات کو پرفارمنس گرانٹس بھی دی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ کالجز میں بھی اسی نوعیت کا رینکنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پرانی جامعات کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، جن کے حل کے لیے حکومت مسلسل رابطے میں ہے اور 2017 سے واجب الادا پنشن واجبات بھی کلیئر کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مالی معاونت فراہم کرے گی تاہم جامعات کو بھی اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔وزیر اعلیٰ تعلیم نے کہا حکومت کی توجہ مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ مضامین کے فروغ پر ہے جبکہ ایسے غیر مؤثر اور کم طلب مضامین کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا جن میں طلبہ کی دلچسپی نہیں رہی۔انہوں نے احساس اسکالرشپ پروگرام کی بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی تعلیمی معاونت کے لیے جامعات کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات کو این او سی جاری کرتے وقت طلبہ اور اساتذہ کے تناسب کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران مینا خان آفریدی نے بجٹ اور صوبائی حقوق سے متعلق سیاسی امور پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ بجٹ سازی سے قبل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات صوبے کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انہوں نے فاٹا کے این ایف سی شیئر میں اضافے کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت آئندہ مالی سال کا مکمل بجٹ پیش کرے گی اور صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے