جنگبندی قرارداد کو ویٹو اسرائیل کو مزید جنگی جرائم پر اُکسائے گا، فلسطینی اتھارٹی
فلسطینی اتھارٹی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے غزہ میں مستقل جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کرنا، اسرائیل کو مزید جرائم کے ارتکاب کی ترغیب دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے امریکہ کے اس اقدام پر افسوس اور حیرت کا اظہار کیا۔ فلسطینی اتھارٹی نے کہا کہ ہم امریکہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو روکنے پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔ واشنگٹن کا ویٹو کرنا صیہونی رژیم کو فلسطینی عوام کے خلاف جرائم جاری رکھنے پر اکسائے گا۔ یاد رہے کہ امریکہ نے جمعرات 18 ستمبر 2025ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 10 غیر مستقل ارکان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ یہ قرارداد ڈنمارک کی قیادت میں پیش کی گئی۔ جس میں غزہ میں بلا مشروط و مستقل جنگ بندی سمیت تمام قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 10 غیر مستقل ارکان ہیں۔ اس کے علاوہ 5 مستقل ارکان کے پاس ویٹو پاور ہے۔ جن میں سے 14 نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور امریکہ نے اپنے منفی ووٹ یا دوسرے لفظوں میں اپنے ویٹو کے حق کے ذریعے کونسل کے 10,000 ویں اجلاس میں اس قرارداد کو منظور ہونے سے روک دیا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق اس وقت غزہ میں قحط، بھوک اور نسل کشی کا راج ہے لیکن اس کے باوجود وہاں جنگ بندی کے کوئی آثار نہیں۔ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ادارے IPC کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ویسے تو سارے غزہ میں شدید غربت اور بھوک پائی جاتی ہے تاہم اس کے بعض علاقوں میں باقاعدہ طور پر قحط کی حالت موجود ہے۔
