مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ دوبارہ امریکی جارحیت پر ایرانی جواب پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور بڑے پیمانے پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ جو سمجھتے ہیں امریکا میں تبدیلیاں انکی ایران دشمنی بدل سکتی ہیں، وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ جارح دشمن کے سامنے معمولی سا جھکاؤ بھی اسے مزید دلیر کر دے گا اور یہ جھکاؤ شہدا کے خون کو رائیگاں کردے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نےظالموں کے خلاف جدوجہد کے قومی دن پر جاری پیغام میں واضح کیا کہ دوبارہ امریکی جارحیت پر ایرانی جواب پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور بڑے پیمانے پر ہوگا، امریکا اپنی بالا دستی کے خاتمے کو دور دیکھتا ہے، جبکہ ہم اسے بہت قریب دیکھتے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایرانی عوام اس دن پر امریکا کے خلاف موقف کو پہلے سے کہیں زیادہ صاف اور واضح انداز میں سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی حالیہ جارحیت اور ایرانی قوم کا اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا، ہمارے لیے ایک رہنما اصول کے طور پر کام کرتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ خلیج فارس، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال نے امریکا کے ناقابل شکست ہونے کا تصور چکناچور کردیا، صورتحال نے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے والی حکومتوں کی کمزوری، بے بسی کو بے نقاب کردیا، خلیج فارس کی صورتحال نے بڑی طاقتوں کی بےوفائی کو بھی آشکار کردیا، بڑی طاقتوں کی اپنے زیر سرپرستی ریاستوں کا دفاع کرنے میں ناکامی کو بھی آشکار کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانیوں پر امریکی مظالم کی شروعات 70 سال پہلے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش سے ہوئی، تاکہ وہ ایران کے قومی وسائل اور دولت، خاص طور پر اس کے تیل کو لوٹ سکے، اس کے بعد کی دہائیاں بھی ایرانی عوام کے مال و دولت کو بےدردی سے لوٹنے کی امریکی کوششوں سے بھری پڑی ہیں۔
