دنیامقبول

وزیراعظم شہباز شریف کی فیلڈ مارشل کے ہمراہ امریکی صدر سے ملاقات

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد جاری تصاویر میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ٹرمپ کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، ایک گروپ فوٹو کے دوران ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں انگوٹھا بلند کرنے کا اشارہ بھی دیا۔

یہ ملاقات واشنگٹن کے وقت کے مطابق شام 4:30 بجے (پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے) شیڈول تھی، لیکن اس میں تقریبا 30 منٹ کی تاخیر ہوئی کیونکہ امریکی صدر ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ اور 20 منٹ جاری رہی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔

وائٹ ہاؤس پریس پول کی تصاویر میں وزیرِاعظم شہباز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دکھایا گیا ہے، جو اوول آفس میں انتظار کر رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ اپنی مصروفیات ختم کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلا باضابطہ دو طرفہ رابطہ ہے، یہ ملاقات سابق وزیرِاعظم عمران خان کی جولائی 2019 میں ٹرمپ سے پہلی مدت کے 6 سال بعد ہوئی۔

قبل ازیں، سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کے مطابق اینڈریو ایئر بیس پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا ریڈ کارپیٹ استقبال کیا گیا، امریکی ایئر فورس کے اعلیٰ عہدیدار نے وزیراعظم کا ایئربیس پر استقبال کیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ تھے۔

ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایک ’عظیم رہنما‘ وائٹ ہاؤس آرہے ہیں۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل ملاقات کے لیے آرہے ہیں، فیلڈ مارشل بہترین شخصیت کے مالک ہیں اور وزیرِاعظم بھی‘

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری امریکی صدر کے شیڈول سے پتا چلتا ہے کہ اس ملاقات میں صحافیوں کو مدعو نہیں کیا گیا ہے، جو ٹرمپ کے معمول کے طریقۂ کار سے ایک انحراف ہے، کیونکہ وہ عام طور پر اوول آفس میں منتخب صحافیوں کو بلاتے ہیں۔

پاک۔امریکا تعلقات میں گرمجوشی

نیویارک میں میڈیا بریفنگ کے دوران محکمہ خارجہ کے سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور میں واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں بدتریج گرمجوشی بڑھ رہی ہے۔

کئی برسوں تک امریکا نے بھارت کو ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابل توازن کے طور پر دیکھا، جبکہ پاکستان کو چین کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا رہا۔

جنوری 2025 میں ٹرمپ کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے بھارت کے ساتھ امریکی تعلقات تناؤ کا شکار ہیں، جن کی وجوہات میں بھارتیوں کے لیے ویزا رکاوٹیں، بھارتی مصنوعات پر واشنگٹن کی جانب سے عائد بھاری ٹیرف شامل ہیں جبکہ صدر ٹرمپ نے یہ بار بار کا دعویٰ شامل ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر مئی میں سرحد پار جھڑپوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی۔

سینئر عہدیدار نے زور دیا کہ پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات اس کی بھارت کے ساتھ شراکت داری سے منسلک نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں حالیہ امریکی سرمایہ کاری، جس کی مالیت سیکڑوں ملین ڈالر ہے، اسی طرح عہدیدار نے پٹرولیم کی تلاش میں امریکا کی مسلسل دلچسپی کا ذکر کیا۔

ایک سوال کے جواب میں عہدیدار نے مزید کہا کہ واشنگٹن ابھی بھی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے۔

31 جولائی کو دونوں ممالک نے ایک تجارتی معاہدے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت امریکا نے پاکستانی مصنوعات پر 19 فیصد ٹیکس عائد کیا جبکہ ٹرمپ نے ابھی تک بھارت کے ساتھ اس نوعیت کے کسی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ تناؤ کے جواب میں نئی دہلی نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک توازن کے طور پر دوبارہ ترتیب دینا شروع کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ جون 2025 میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں امریکا کے صدرڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، اعلیٰ سطح کی یہ ملاقات کابینہ روم میں ظہرانے کے دوران ہوئی، جس کے بعد اوول آفس کا دورہ بھی کیا گیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) نے کہا تھا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، اسرائیل تنازع کے پُر امن حل پر زور دیا ہے، ملاقات کے دوران ایران، اسرائیل کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا تھا۔

یاد رہے کہ ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کا سفارت کاری سے بھرپور امریکا کا دورہ وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے ذریعے اپنے عروج پر پہنچنے گا۔

رپورٹ کے مطابق اپنے طوفانی دورے کے دوران، وزیرِاعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس، مسلم بلاک کے ایک اہم کثیرالجہتی اجلاس، اور نیویارک میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سربراہان سے علیحدہ ملاقاتوں میں شرکت کر چکے ہیں۔

وزیرِاعظم کی میڈیا ٹیم، پاکستان کے سفارت خانے اور اس کے اقوام متحدہ مشن کے عملے نے اس ملاقات کو ’تقریباً یقینی‘ قرار دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے