اہم خبریںدنیا

امریکی اخبار : نیتن یاہو ٹرمپ کو ایران کے جوہری مرکز ‘پک ایکس ماؤنٹین’ کی انٹیلی جنس فراہم کریں گے

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران انہیں ایران کے پک ایکس ماؤنٹین جوہری مرکز سے متعلق انٹیلی جنس فراہم کریں گے۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اپنے پراسرار پک ایکس ماؤنٹین جوہری مرکز پر سرگرمیاں بڑھا رہا ہے اور امن مذاکرات جاری رکھنے کے حوالے سے درست معلومات فراہم نہیں کر رہا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات میں ایران کے ساتھ حالیہ جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام پر خصوصی توجہ دی جائے گی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی وفد ملاقات کے دوران ایسے شواہد پیش کرے گا جن سے ظاہر ہو گا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق نئی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں اور تہران اس وقت نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو ایسے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ 2020ء میں تعمیر شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ خفیہ پک ایکس ماؤنٹین تنصیب پر جوہری سینٹری فیوجز پہنچائے گئے ہیں۔

یہ زیرِ زمین مرکز نطنز کی جوہری تنصیب کے قریب کوہِ کولانگ کے نیچے 300 فٹ سے زائد گہرائی میں واقع ہے اور طویل عرصے سے شبہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ یہ ایران کے جوہری پروگرام کا حصہ ہے۔

اس سے قبل اس مقام پر جوہری سرگرمیوں کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے تھے، صدر ٹرمپ نے ماضی میں ایران پر حملوں کے دوران اس تنصیب کو نشانہ نہ بنانے کی ایک وجہ یہی بتائی تھی۔

گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں پک ایکس ماؤنٹین پر سرگرمیوں کی اطلاعات کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کے پاس اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے اس پہاڑی تنصیب کو نشانہ بنانے کے امکان کا اشارہ بھی دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی افواج ایک زمینی کارروائی کے لیے بھی تیار ہیں، جس کا مقصد ایران میں زیرِ زمین محفوظ کیے گئے سینکڑوں پاؤنڈ افزودہ یورینیئم پر قبضہ کرنا ہو سکتا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل ایسے شواہد بھی پیش کرے گا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کو دوبارہ بحال کرنے میں مصروف ہے، حالانکہ امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ان صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے