اہم خبریںدنیا

تجزیہ کار کا دعویٰ: حوثیوں سے 2 اہم سمندری راستوں کو خطرہ، مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے

محقق، جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر کے پروفیسر، مشرقِ وسطیٰ کے تجزیہ کار لوسیانو زکارا نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ خطے میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہونے والے واقعات نے طاقت کے توازن میں تبدیلی کے آثار پیدا کر دیے ہیں۔

عرب میڈیا پر شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لوسیانو زکارا نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے مغربی ساحل کے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد یہ دیکھنا باقی ہے کہ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز حوثیوں کو پسپا کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔

زکارا کے مطابق حوثیوں کے زیرِ اثر آنے سے آبنائے باب المندب بھی خطرے میں ہے جبکہ ایران کے حملوں کے باعث آبنائے ہرمز پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حوثیوں نے آبنائے باب المندب بند نہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم حوثیوں کے پاس باب المندب بند کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
زکارا کا کہنا ہے کہ حوثی ایران کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں لیکن حوثیوں کی کارروائیاں ایران کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ اس سے دونوں اہم سمندری گزرگاہیں خطرے کی زد میں آ گئی ہیں۔

تجزیہ کار نے مزید کہا ہے کہ مغربی یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی سے سعودی عرب بھی شدید متاثر ہوا ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی اس صورتِ حال کے اثرات میں شامل ہے۔

لوسیانو زکارا کے مطابق آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے متبادل توانائی ترسیلی راستے استعمال کرنے کی سعودی کوششیں بھی توقع کے مطابق مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے