اہم خبریںدنیا

مصری پارلیمنٹ کا فیصلہ: سعودی عرب کو عسکری مدد فراہم کی جائے گی

مصری پارلیمنٹ نے سعودی عرب کو عسکری مدد فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔

مصری میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کا تیسرا اجلاس اسپیکر ہشام بدوی کی صدارت میں ہوا، جس میں پارلیمنٹ نے صدر عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کو ہر قسم کی عسکری مدد دینے کا اختیار سونپ دیا۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے صدر السیسی کی درخواست پر دو بند کمرہ اجلاس بھی منعقد کیے گئے تھے۔
یہ پیش رفت مصر کی قومی دفاعی کونسل کے اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے، جس کی صدارت صدر السیسی نے کی۔ اجلاس میں خطے کی صورت حال اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں پر غور کیا گیا۔

مصری میڈیا کے مطابق تقریباً 500 ارکان پارلیمنٹ نے بحث میں حصہ لینے کی درخواست کی تھی، جس کے باعث حتمی ووٹنگ سے قبل مزید اجلاس منعقد ہوئے تھے۔

ڈپٹی اسپیکر عاصم الجزار کے مطابق گزشتہ دو اجلاسوں میں 100 سے زائد ارکان اظہار خیال کر چکے ہیں، جن میں سے بیشتر نے سعودی سرزمین کے دفاع کے لیے صدر کو فوج بھیجنے کی اجازت دینے کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ مصر خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے سفارت کاری کو بنیادی ترجیح دیتا ہے۔
مصر کے آئین کے آرٹیکل 152 کے تحت صدر قومی دفاعی کونسل سے مشاورت اور پارلیمنٹ کے دو تہائی ارکان کی منظوری کے بغیر جنگ کا اعلان یا ملک کی سرحدوں سے باہر جنگی کارروائیوں کے لیے مسلح افواج تعینات نہیں کر سکتے۔

19 اکتوبر کو مصر کی قومی دفاعی کونسل نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا اور اس کی سلامتی اور خودمختاری کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

صدر عبدالفتاح السیسی بھی کہہ چکے ہیں کہ مصر سعودی عرب کی سرزمین کے دفاع کے لیے اس کی درخواست پر ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے