دنیا

ہرزگ اور نیتن یاہو نے غزہ میں نسل کشی کو ترغیب دی ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے غزہ کے غیر فوجی بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست کے سربراہان نے جان بوجھ کر غزہ میں نسل کشی کرنے کی ترغیب دی۔ اقوام متحدہ کی آزاد تحقیقاتی کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ اسحاق ہرزوگ صدر، بنیامین نیتن یاہو وزیر اعظم اور یوآو گالانت سابق وزیر دفاع نے غزہ میں اجتماعی نسل کشی کی ترغیب دی۔ کمیٹی نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے غیر فوجی بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر اور منصوبہ بندی کے ساتھ تباہ کیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر فلسطینی عوام کو زندگی کے ضروری وسائل سے محروم کیا۔

آزاد ریسرچ کمیٹی نے کہا کہ اسرائیل نے ایسی صورتحال پیدا کی ہے جس کا مقصد فلسطینی عوام کا جزوی یا مکمل تباہ کرنا ہے، اور یہ عمل اجتماعی نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔ کمیٹی نے تاکید کی کہ اکتوبر 2023 سے مغربی کنارے میں اسرائیل کی پالیسیاں اس کے توسیع پسند ارادے اور مغربی کنارے کے مکمل الحاق کی واضح نشاندہی کرتی ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں 228 سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہوئے اور نسل کشی کی جنگ میں مجموعی ہلاکتیں 65 ہزار 382 تک پہنچ گئی ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیلی فوج کے حملوں کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد 166 ہزار 985 تک پہنچ گئی ہے۔ وزارت صحت نے کہا کہ 18 مارچ 2025 سے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد 12823 افراد شہید اور 54944 زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ مہینوں سے انسانی بحران کا شکار ہے اور یہاں کے لوگ، خصوصاً بچے اور خواتین، انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ خوراک، پانی اور دوا کی شدید کمی نے بہت سے لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے