دنیاکالمزمقبول

اسرائیل کیساتھ "اخلاق کی زبان” میں بات نہیں کی جا سکتی، امریکی تھنک ٹینک

معروف امریکی تھنک ٹینک کوئنسی انسٹیٹیوٹ کے ای مجلے ریسپانسبل اسٹیٹ کرافٹ (Responsible Statecraft) نے پال پِلر کے قلم سے تحریر کردہ تجزیاتی مضمون شائع کیا ہے جس میں تاکید کی گئی ہے کہ مشرق وسطی کو آج ایک نئی حقیقت کا سامنا ہے جو یہ ہے کہ اسرائیل ہی اس خطے میں عدم استحکام کا "بنیادی ذریعہ” ہے۔ امریکی تجزیاتی مجلے نے لکھا کہ اب یہ حقیقت صرف عرب و اسلامی ممالک میں ہی رائج نہیں رہی بلکہ مغربی دارالحکومتوں میں بھی پھیل چکی ہے جس نے مغربی حکومتوں کو بھی، قابض صیہونی رژیم کے بارے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ تل ابیب کے ہاتھوں فلسطینیوں کے خلاف جاری کھلے جنگی جرائم اور خطے کے ممالک کے خلاف اس کی فوجی جارحیت، اب ایک ایسی سطح پر پہنچ گئی ہے کہ جس سے پورے خطے کی "اجتماعی سلامتی” کو خطرہ لاحق ہے! 

گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں اسرائیلی حکام کی تنہائی اور مغربی حکومتوں کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کئے جانے کے عمل میں تیزی کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی ماہر تجزیہ کار نے لکھا کہ مغرب بھی اب اس حقیقت کو تسلیم کر چکا ہے، جبکہ آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے میں لیت و لعل سے کام لینے والی حکومتیں بھی، غزہ میں جاری اسرائیلی جرائم کے خلاف یورپ و امریکہ میں منعقد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی وسیع لہر اور رائے عامہ کے بڑھتے دباؤ کے باعث اپنے موقف میں تبدیلی لانے پر مجبور ہو چکی ہیں۔ پال پلر کے مطابق نے تاکید کی کہ غزہ کے خلاف اسرائیلی حملوں پر مغرب میں پائے جانے والے غم و غصے کی سطح غیر معمولی حد تک جا پہنچی ہے، ایک ایسا خطہ کہ جہاں اس قابض رژیم نے دسیوں ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے جبکہ اس صورتحال میں اسرائیل نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کے بجائے نئے خطرات کی طرف رجوع کرتے ہوئے حتی مغربی کنارے کو بھی، اپنے اہم ردعمل کے طور پر، مقبوضہ سرزمینوں میں ضم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

 امریکی ماہر تجزیہ کار کے مطابق اسرائیلی وزیر برائے اندرونی سلامتی اتمار بن گویر نے واضح انداز میں، "مغربی کنارے کے الحاق کی ضرورت” پر زور دیا ہے جبکہ اس موقف کو غاصب صیہونیوں کی وسیع حمایت بھی حاصل ہے۔ امریکی تجزیہ کار نے مزید لکھا کہ نہ صرف اسرائیلی رژیم اور اس کی انتہاء پسند جماعتیں بلکہ اسرائیلی معاشرے کی اکثریت بھی، "صیہونی جرائم کے خلاف بین الاقوامی دباؤ” کو "اسرائیل کے خلاف عالمی تعصب” کے طور پر دیکھتی ہے درحالیکہ اسرائیلیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ غزہ میں کوئی بے گناہ شہری نہیں.. اور حتی وہ، اس پورے علاقے (غزہ کی پٹی) کے مکینوں کو جبری طور پر بے دخل کر دینے کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں لہذا اس طرز عمل کے خلاف "اخلاقی” اور "انسانی” اصولوں پر مبنی کوئی بھی "اپیل” بیکار ہے اور صرف "بھاری قیمتوں کا نفاذ” ہی قابض اسرائیلی رژیم کو اپنا راستہ بدلنے پر مجبور کر سکتا ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے