اسرائیل کیجانب سے غزہ کے سامنے دو تباہ کن انتخاب
انسانی حقوق کے عالمی ادارے یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہمیں چونکا دینے والی شہادتیں موصول ہوئی ہیں کہ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون کے لئے غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینی خاندانوں پر براہ راست دباؤ ڈالا جا رہا ہے جس کے بدلے انہیں اپنے علاقوں میں باقی رہنے یا انتہائی ضروری انسانی امداد کے حصول کی اجازت دی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے لکھا کہ ہماری فیلڈ ٹیم نے آج صبح غزہ شہر کے مغرب میں واقع شاطی پناہ گزین کیمپ میں "بکر خاندان” کے قتل عام کو دستاویزی شکل دی ہے جبکہ اس قتل عام میں خواتین و بچوں سمیت 9 افراد شہید ہوئے درحالیکہ 1 روز قبل ہی اس خاندان نے، علاقے میں باقی رہنے کے بدلے قابض اسرائیلی فوج کے لئے کام کرنے اور ابو شباب گینگ کی طرح سے غیر قانونی مشن انجام دینے پر مبنی غاصب صیہونی رژیم کی پیشکش کو ٹھکرایا تھا۔
یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس واچ نے لکھا کہ ہمیں "الدیری” اور "دغمش” خاندانوں کے ذرائع سے بھی اطلاع ملی ہے کہ اُنہیں بھی اسی طرح کی اسرائیلی مطالبات کا نشانہ بنایا گیا ہے اور جب انہوں نے غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ تعاون سے انکار کر دیا تو قابض اسرائیلی فوج نے نہ صرف ان کے علاقے پر بمباری تیز کردی بلکہ الصبرہ محلے میں متعدد کار بم دھماکے بھی کئے جن میں 60 سے زائد افراد شہید اور دیگر متعدد ملبے تلے دب کر زخمی ہو گئے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے لکھا کہ قابض اسرائیلی فوج نے اپنی "انفرادی بھتہ خوری” کو ایک "منظم اجتماعی بھتہ خوری” میں تبدیل کر دیا ہے اور وہ غزہ میں ایسے ایسے گروہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے جو افراتفری پھیلانے اور چوری سمیت متعدد غیر قانونی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں نیز قابض اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے فلسطینی خاندانوں کو قتل عام، جبری نقل مکانی یا بنیادی ضروریات سے محروم کر دینے کی دھمکیوں کے ذریعے حماس مخالف "مقامی ملیشیا” بنانے پر مجبور کرنا بھی ایک "مکمل جنگی جرم” ہے۔
اپنی رپورٹ میں ہیومن رائٹس کی عالمی تنظیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قابض صیہونی رژیم کی ان غیر قانونی کارروائیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے فلسطینی خاندانوں کا انکار؛ تحفظ پر مبنی ان کے حق کی نفی کرتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے حملے یا جبری نقل مکانی کا جواز پیش کرتا ہے درحالیکہ متاثرین کی حیثیت سے قطع نظر، عام شہریوں کو بھی نقصان پہنچانا، انہیں نقل مکانی پر مجبور کرنا یا انہیں بھوکا مار ڈالنا، بذات خود سنگین جرم ہے۔
