تازہ تریندنیا

خلیجی ممالک کے نقصانات پورے کرنے کے لیے امریکا ایران کے منجمد اثاثے اُن کے حوالے کرنا چاہتا ہے

خلیجی ممالک کے نقصانات پورے کرنے کے لیے امریکا ایران کے منجمد اثاثے اُن کے حوالے کرنا چاہتا ہے

محسن رضائی نے دھمکی دی کہ بحری ناکہ بندی ختم نہ ہوئی تو ہم دیگر امریکی اڈوں پر حملے کر کے جنگ کو نیا رُخ دے دیں گے، اور امریکا کو پہلے سے کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔

جمعہ کے روز دیے گئے انٹرویو میں رضائی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا دوبارہ جنگ شروع کرتا ہے تو وہ ایک تاریک راستے میں داخل ہو جائے گا۔ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ٹرمپ کو یہ تعطل ختم کرنا ہوگا، گیند اب ٹرمپ کے کورٹ میں ہے۔

اطلاعات کے مطابق، ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ عبوری معاہدہ طے پاتے ہی 12 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کیے جائیں، جب کہ مزید 12 ارب ڈالر بعد کے مرحلے میں دیے جائیں۔ جب کہ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اس مرحلے پر فنڈز کا اجرا ایران پر دباؤ ڈالنے کے ایک اہم ذریعے کو ختم کر دے گا۔ ٹرمپ کا مطالبہ ہے کہ کوئی بھی نیا معاہدہ 2015 کے جوہری معاہدے سے کہیں زیادہ مضبوط نظر آئے اور اس میں ایسی کوئی بات نہ ہو جسے ’’نقد رقم کے پلندے‘‘ ایران کے حوالے کرنے سے تعبیر کیا جا سکے۔ ٹرمپ ماضی میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے ایران کو مالی معاوضہ دینے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے یہ اصطلاح استعمال کر چکے ہیں۔

انٹرویو میں محسن رضائی نے جنگ کے بعد ایران کے مستقبل، آبنائے ہرمز کی حیثیت اور دوبارہ حملے کی صورت میں ایران کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں ایرانی فیصلہ ساز حلقوں کی سوچ پر روشنی ڈالی۔ ان کے بیانات کو اہم سمجھا جاتا ہے کیوں کہ وہ اب بھی ایران کے سیکیورٹی اداروں سے قریبی تعلق رکھتے ہیں اور موجودہ سپریم لیڈر کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں، جو اپنے والد کی ہلاکت اور اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے عوامی منظر سے غائب ہیں۔

انھوں نے کہا ’’اگر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ 24 ارب ڈالر اعتماد کا امتحان ہے جو ایران ٹرمپ سے لینا چاہتا ہے۔ امریکا کو یہ امتحان پاس کرنا ہوگا، تب راستہ کھلے گا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’یہ ہمارا اپنا پیسہ ہے، امریکا کا پیسہ نہیں۔‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے