اہم خبریں

ابھی امریکہ نے ایران پر حملہ کیا ھے جہاں ڈرون ٹیکنالوجی اور کشتیوں کو نشانہ بنایا ھے

اظہر علی شاہ
پیام سحر ڈیجیٹل پشاور پاکستان کا کہنا ہے کہ

امریکہ نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی نئی شرط پیش کرتے ایران جنگ بندی مزاکرات کی پوری طرح دھجیاں اڑا دیں ٹرمپ کی طرف سے پیش کی جانے والی نئی شرط یہ ثابت کرتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس خطے میں کیا چاھتے ہیں پاکستان کی سوشل میڈیا پر بڑھ چڑھ کر جو لوگ ایران کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسرائیل و امریکہ کی جارحیت پر مسلسل زبان بندی کر رکھی ہے ان لوگوں کے لئے بھی اب اپنے گریبان میں جھانکنے کا وقت آگیا ہے وہ دیکھیں کہ کیا ایران پوری امہ کی جنگ نہیں کر رہا،؟
ٹرمپ نے اپنے مطالبے میں نسبتا” نرم زبان اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پاکستان قطر بحرین اور کچھ مزید عرب ریاستوں کے نام لیکر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ یہ تمام ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں اور ابراہم اکارڈ کا حصہ بنیں
ابراہم اکارڈ کیا ہے اس پر آگے چل کر بات کریں گے فی الوقت اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مطالبے پر بات کرتے ہیں کہ ٹرمپ نے مطالبہ کرتے وقت غیر متوقع طور پر سفارتی الفاظ کا خیال رکھا لیکن ٹرمپ کے مطالبے کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ کے قریبی ساتھی لنڈسے گراہم نے دھمکی آمیز پیغام دیا کہ اگر ٹرمپ کے مطالبے پر من و عن عمل نہ کیا گیا تو متعلقہ ممالک یعنی سعودی عرب پاکستان قطر وغیرہ کو بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا
اب آئیں ابراہم اکارڈ پر مختصر بات کر لیتے ہیں کہ ابراہم اکارڈ کا ایک سیاسی پہلو ہے جس کا مطلب فلسطین کی سرزمین سے دستبردار ہونا اور فلسطین کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے کے مترادف ہے جبکہ دوسرا پہلو مذہبی ہے جس پر کم و بیش دس سال پہلے ہم لکھ چکے ہیں کہ مذہب ابراہمی کے نام سے ایک نیا مذہب تخلیق کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے مذہب ابراہمی کی تشریح اس طرح سے کی جارہی ہے کہ تمام انسان ایک آدم علیہ سلام کی اولاد ہیں تو پھر مزاہب الگ الگ کیوں ،؟
مذہب ابراہمی کے تحت تمام مزاہب کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا چاھییے یہاں پر یہ بھی قابل غور بات ہے کہ مذہب ابراہمی کا مقدس مقام یروشلم میں رکھا گیا ہے
ابراہم اکارڈ اور مذہب ابراہمی کو اب تک نافذ ہو جانا تھا لیکن حماس نے اپنے لاکھوں انسانوں کی قربانی دیکر اس منصوبے کو تہس نہس کردیا اس کا آغاز حماس نے 23 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ایک خوفناک حملے سے کیا تھا
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا اسکے بعد ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے پر غور کریں گے
پاکستان نے بھی اس مطالبے کو سختی سے مسترد کردیا
امریکہ نے ایک اور شب خون مارتے ہوئے گزشتہ شب ایران کے مختلف شہروں اور حساس مقامات پر بلا جواز بمباری کی جبکہ آج کچھ دیر پہلے ایران نے اپنی فضاؤں میں امریکہ کا ایک اور ایم کیو نائن ڈرون مار گرایا امریکہ اور اسرائیل کی پوری کوشش ہے کہ وہ ایران کو جوابی کاروائی پر اکسائے اور اس لڑائی کا فایدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل سعودی عرب میں عازمین حج پر ڈرون یا میزائل حملہ کرئے اور اسکا الزام ایران پر عائد کرتے ہوئے مسلمانوں کو ایران کیخلاف کھڑا ہونے پر اکسائے
ایران نے ابھی تک تازہ حملوں کی جوابی کاروائی نہیں کی یقینی بات ہے کہ ایران بھی مناسک حج کے اختتام اور حجاج کرام کی واپسی کا انتظار کر رہا ہوگا
دنیا دیکھ رہی ہے اور انتظار کر رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں دنیا کس طرف جائے گی بظاہر ایسا ہی لگتا ہے امن مذاکرات کا ڈرامہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور خطے میں جنگ کا نیا مرحلہ شروع ہوسکتا ہے ایرانی حکام بار بار متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ایران ایٹمی طاقت حاصل کر لے گا اور یہ جنگ عالمی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی
سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیا سپر پاور امریکہ سمیت پوری دنیا ڈیڑھ کروڑ کی ابادی والی ناجائز اور غاصب ریاست کے سامنے اسقدر بے بس ہوچکی ہے کہ وہ مل کر بھی کروڑوں اربوں لوگوں کو بھیانک موت سے نہیں بچا سکتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے