قومی

حکومت کا پی ٹی آئی کو دوٹوک پیغام: مذاکرات کرو یا لانگ مارچ

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج منعقد ہوگا، جس میں دونوں فریقین کے درمیان اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے غیر مشروط طور پر لانگ مارچ منسوخ کرنے تک کسی قسم کی یقین دہانی نہیں کروائی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے کسی بھی دباؤ یا ڈکٹیشن کے تحت فیصلے کرنے سے واضح انکار کر دیا ہے، اور حکومتی وفد صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے ہدف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی کلمہ حق کہا گیا ہے، اور وفاقی حکومت و ریاستی اداروں نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے صوبائی حکومت کو اس کی ناکامی قرار دیا ہے
حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی مبینہ سہولت کاری چھوڑ کر ان کے خلاف کھل کر کارروائی کی جائے۔

حکومتی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا تو آج ہی مذاکرات ختم کر دیے جائیں گے۔ ایسی صورت میں ریاست کی طرف سے ایمرجنسی یا گورنر راج کا آپشن بھی زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب، اپوزیشن جماعت کی طرف سے آج حکومتی تجاویز اور مطالبات پر اپنا باضابطہ جواب دیا جائے گا، جس کے بعد مذاکرات کے مستقبل کا حتمی فیصلہ ہوگا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے