تہران واشنگٹن سمجھوتے کے بدلے میں کچھ سہولتیں لینے کی تل ابیب کی کوشش
بعض صیہونی میڈیا نے رپورٹ دی ہے کہ تل ابیب واشںگٹن سے اس بات کی ضمانت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ تہران کے ساتھ سمجھوتے کے بعد بھی اس کو لبنان میں فوجی کارروائیوں کی چھوٹ حاصل رہے گی
میڈیا کے مطابق صیہونی حکومت کی آئی 24 نیوز سائٹ نے موجودہ حالات کے بارے میں اپنے تجزیئے میں لکھا ہے کہ ٹرمپ حکومت، اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو کو ایران کے ساتھ ممکنہ سمجھوتے کے سیاسی نتائج سے دور رکھنا چاہتی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق واشںگٹن کے نقطہ نگاہ سے اگر تہران کے ساتھ کوئی سمجھوتہ ہو تو ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اس کو اسرائيل کا مسلطہ کردہ سمجھوتہ سمجھا جائے اور اسی طرح یہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوجائیں اور کشیدگی بڑھ جائے تو یہ سمجھا جائے کہ نتن یاہو نے امریکا کو ایران کے ساتھ تصادم کے راستے پر ڈالا ہے۔
آئی 24 نیوز نے لکھا ہے کہ ممکن ہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ سمجھوتے کے لئے، تل ابیب کو دیگر محاذوں پر کچھ سہولتیں اور اسرائيلی فوج کو اقدامات کی چھوٹ دے دیں ۔
