غزہ میں نسل کشی کے مرتکب افراد کو گرفتار کیا جائے، کولمبیا
کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے اعلان کیا ہے کہ دنیا کی اکثریت غزہ کی پٹی کے خلاف جاری قابض اسرائیلی رژیم کی تباہ کن جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے۔ الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں گستاو پیٹرو نے واضح الفاظ میں کہا کہ غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہونے والے مجرموں کو فی الفور گرفتار کر کے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں لایا جانا چاہیئے۔ اس سلسلے میں کولمبیا کے صدر نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ نسل کشی کے مرتکب افراد کو جرائم روکنے پر مجبور کرنے کے لئے ایک عسکری فورس بنائی جائے کیونکہ صرف مذمتی بیانات سے ہی جنگیں نہیں رکتیں!
الجزیرہ کے مطابق کولمبیا کے صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مَیں "عالمی نجات فورس” کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہوں جبکہ اس تجویز پر عملدرآمد ممالک کی اپنی مرضی پر منحصر ہے تاہم متعدد ممالک نے فلسطین کو آزاد کروانے کے لئے عسکری فورس کی تشکیل میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ بیان کرتے ہوئے کہ فلسطین میں قابض صیہونی رژیم کے جرائم کی مذمت پر مبنی بیانات ہی کافی نہیں، گستاو پیٹرو نے کہا کہ ہمیں غاصبانہ قبضے کے سامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ جنگ غزہ کے حوالے سے بعض یورپی ممالک کے مؤقف میں شامل منافقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے تاکید کی کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں جنگ غزہ کی حمایت کرتی ہیں اور اسرائیل کے حق میں وسیع مالیاتی مہم چلاتی ہیں۔
کولمبیا کے صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے ممالک میں تشدد کی لعنت کا شکار ہیں لہذا ہم جنگ کے خطرات اور امن کو فروغ دینے کی اہمیت جانتے ہیں.. ہم اسرائیل کے یہود دشمنی کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور غزہ کے بچوں کی حمایت کرتے ہیں کہ جن پر اسرائیل مسلسل وحشیانہ بمباری کر رہا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اسرائیل غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے جبکہ عام شہریوں پر بمباری کی مذمت ہمارا فریضہ اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو بچانا پوری انسانیت کو بچانا ہے!
انھوں نے تاکید کی کہ مجھے یقین ہے کہ صدر یاسر عرفات کا فلسطینی ریاست کے قیام کا خواب حقیقت کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے اور میں غزہ کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ ہمارے دلوں میں ہیں اور ہم آپ کے دکھ اور آنسو بانٹتے ہیں! کولمبیا کے صدر نے دوحہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف قطری حکومت و عوام کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا اور اس جارحیت کی مذمت کی۔ گستاو پیٹرو نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کے ووٹنگ سسٹم کو تبدیل ہونا چاہیئے کیونکہ کوئی بھی ملک دنیا بھر پر اپنی رائے مسلط کرنے کا حق نہیں رکھتا!
