"پاکستان کو قرضے نہیں، مہارت، تجربہ اور سرمایہ کاری درکار ہے: شہباز شریف”
ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس: پاکستان قرضوں اور امداد کے بجائے چینی مہارت اور سرمایہ کاری کا خواہاں ہے، وزیرِ اعظموزیرِ اعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز چین کے شہر ہانگژو میں پاک-چین ‘بی ٹو بی’ (Business-to-Business) انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان اب قرضوں اور امداد پر انحصار کے بجائے چینی مہارت، تجربے اور فعال سرمایہ کاری کا متلاشی ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے زراعت کے شعبے میں تعاون پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ چینی تعاون اور اشتراک کے ذریعے پاکستان معیار اور دیگر عالمی ضوابط کے مطابق ایسی زرعی مصنوعات تیار کر سکتا ہے جو براہِ راست چین کی ضروریات پوری کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو اس وقت جدید بیجوں، جدید زرعی مشینری، بہترین کاشتکاری کے طریقوں اور چینی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلے پانچ سے سات سالوں میں پاکستان چین کو اپنی زرعی برآمدات کا حجم بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جائے گا۔
شہباز شریف نے زراعت کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT)، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پاکستانی مارکیٹ میں چینی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے وزیرِ اعظم نے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے پورٹ سٹی کراچی میں 6 ہزار ایکڑ پر محیط ایک ‘خصوصی اقتصادی زون’ (Special Economic Zone) قائم کیا ہے۔ اس زون میں جدید ترین انفراسٹرکچر، سازگار کاروباری ماحول اور ‘ون ونڈو آپریشن’ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس موقع پر انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو انتہائی پرکشش اور آسان شرائط پر طویل مدتی لیز پر زمین دینے کی پیشکش بھی کی۔
پاک-چین تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا، ”ہم پاک-چین دوستی کے 75 سال منا رہے ہیں۔ صدر شی جن پنگ ایک دور اندیش رہنما ہیں جنہوں نے چین کو ایک عالمی اقتصادی اور فوجی طاقت میں تبدیل کر دیا ہے، اور پاکستان ایک سچا دوست ہونے کے ناطے چین کی ان عظیم کامیابیوں پر فخر کرتا ہے۔“
وزیرِ اعظم نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین ہر سال تقریباً 100 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے، جبکہ ان درآمدات میں پاکستان کا حصہ فی الحال انتہائی معمولی ہے۔ تاہم انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ شینزن سے لے کر ہانگژو تک کے دورے کے دوران اربوں ڈالر کی مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے ہیں، جن میں سے 30 فیصد باضابطہ طور پر اربوں ڈالر مالیت کے حتمی تجارتی معاہدوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
نوجوانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستانی نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی آئی ٹی ٹریننگ اور عالمی سرٹیفیکیشنز فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ چین کے تعاون سے شروع ہونے والے ان ہائی ٹیک منصوبوں میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکیں۔
