امریکی میڈیا : ایران نے نائب امریکی صدر کے خط کا جواب تاحال نہیں دیا-
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کو نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہو گیا ہے، تاہم تہران نے ابھی تک اس کا باضابطہ جواب نہیں دیا۔
ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ایران اس مؤقف پر قائم ہے کہ امریکا اس کی 7 شرائط پر عمل درآمد کرے، جبکہ ایران کے حتمی لائحہ عمل کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔
امریکی اور ایرانی عہدیداروں کے حوالے سے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے یہ خط اتوار کو قطری ثالثوں کے ذریعے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی کو بھجوایا تھا۔
رپورٹ کے مطابق خط میں جے ڈی وینس نے امریکی وفد کی قیادت خود کرنے اور دونوں ملکوں کے حکام کی جلد ملاقات کی تجویز دی ہے۔
امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق جے ڈی وینس نے خط میں واضح کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ مذاکرات کے آغاز ہی سے ایجنڈے میں شامل ہونا ضروری ہے، واشنگٹن کا بنیادی مفاد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
نائب امریکی صدر نے خط میں ایران کے مفادات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اپنی جنگ اور پابندیوں سے متاثرہ معیشت کی بحالی اور قومی خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ایسے بااختیار نمائندے مذاکرات کے لیے بھیجنے ہوں گے جو جوہری معاملات پر بات چیت کرنے کا اختیار رکھتے ہوں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خط تہران بھیجنے سے پہلے اس کی منظوری دی تھی۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ محسن رضائی کو تہران کے ساتھ رابطے کے لیے ایک اہم اور ناگزیر شخصیت تصور کرتی ہے۔ محسن رضائی پاسدارانِ انقلاب کی سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں اور امریکی انتظامیہ کے خیال میں وہ واحد شخصیت ہیں جو ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے سے متعلق کسی معاہدے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکی انٹیلی جنس حکام کا خیال ہے کہ محسن رضائی کی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے اور وینس کا خط موصول ہونے کے بعد گزشتہ چند روز کے دوران بھی دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔
مذاکرات کے لیے تاحال کسی مقام یا تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا، تاہم آئندہ ہفتے قطر یا ترکیہ میں براہِ راست بات چیت شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ روز جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کو خط بھیجنے کا مقصد امن مذاکرات کی بحالی قرار دینے کی تردید کر چکے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کو طبی سامان اور دیگر ضروری اشیاء کی مدد درکار تھی، جس کی انہوں نے اجازت دی۔
