گلگت بلتستان الیکشن میں پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا
گلگت بلتستان الیکشن میں پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا 24 میں سے 19 نشستوں کے سرکاری نتائج میں پی پی 9 پر کامیاب ہو گئی۔
گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے الیکشن میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ مجموعی طور پر 24 میں سے 19 نشستوں کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس میں پی پی نے 9 نشستوں پر میدان مار لیا ہے
ننائج کے مطابق وفاق میں حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کو تین نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ 6 نشستوں پر آزاد جب کہ ایک پر ایم ڈبلیو ایم کا امیدوار کامیاب ہوا ہے
الیکشن کمیشن نے 12 حلقوں کے مکمل سرکاری نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کامیاب امیدواروں کے ناموں کا بھی اعلان کرنا کر دیا ہے۔
جی بی 1 گلگت ون (سرکاری نتیجہ):
پیپلز پارٹی کے امجد ایڈووکیٹ 10594 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جب کہ ن لیگ کے شفیق الدین 6316 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔
جی بی 2 گلگت 2 (غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجہ):
مسلم لیگ ن کے حفیظ الرحمان 11204 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار جمیل احمد 7376 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 3 گلگت 3 (غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجہ):
آزاد امیدوار سہیل عباس 7853 ووٹ لے کر جیت گئے جب کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار آفتاب حیدر 7434 ووٹ حاصل کر کے ان کے قریب ترین حریف رہے۔
جی بی 4 نگر ون (سرکاری نتیجہ):
پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 7654 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ اسلامی تحریک کے محمد ایوب وزیری 6597 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 5 نگر 2 (غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجہ):
پیپلز پارٹی کے امیدوار ذوالفقار مراد 2628 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ آزاد امیدوار ریاض اکبر 2394 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 6 ہنزہ (سرکاری نتیجہ):
آزاد امیدوار نیک نام کریم 6390 ووٹ لے کر کامیاب جب کہ پی پی کے کرنل (ر) امتیاز الحق 5417 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 7 اسکردو ون (سرکاری نتیجہ):
پیپلز پارٹی کے توقیر کے مہدی شاہ 4320 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جب کہ آئی پی پی کے راجا جلاس 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 8 اسکردو 2 (سرکاری نتیجہ):
ایم ڈبلیو ایم کے کاظم میثم 10658 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جب کہ پی پی کے سید محمد علی شاہ کے سید محمد علی شاہ 10065 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔
جی بی 9 اسکردو 3 (غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجہ):
پیپلز پارٹی کے فدا ناشاد 6314 ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار پائے جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد سلیم 6106 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 10 اسکردو 4 (غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجہ)
پیپلز پارٹی کے امید وار ناصر علی مقپون 6639 ووٹ لے کر فاتح قرار پائے جب کہ آئی پی پی کے امیدوار محمد خان وزیر 4878 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 11 کھرمنگ (سرکاری نتیجہ):
پیپلز پارٹی کے اقبال حسین 5944 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جب کہ ن لیگ کے سید محسن رضوی 4589 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔
جی بی 12 شگر (سرکاری نتیجہ):
پیپلز پارٹی کے امیدوار عمران ندیم 12944 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ آئی ٹی پی کے راجا اعظم 8682 ووٹ لے کر دوسرے اور ن لیگ کے طاہر شگری 6098 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 18 دیامر 4 (سرکاری نتیجہ):
مسلم لیگ ن کے کفایت الرحمان 5521 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 4916 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 19 غذر 1 (غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجہ):
پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ 9613 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ ان کے قریب ترین حریف آزاد امیدوار نواز ناجی رہے، جنہوں نے 8210 ووٹ لیے۔ مسلم لیگ ن کے ظفر محمد شادم خیل 6545 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 20 غذر ٹو (سرکاری نتیجہ):
ن لیگ کے عبدالججہان 6917 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ پیپلز پارٹی کے نذیر احمد نے 6758 ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی۔
جی بی 21 غذر 3 (سرکاری نتیجہ):
آزاد امیدوار امان علی عامر 9938 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ پیپلز پارٹی کے ایوب شاہ 6643 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 22 گانچھے (سرکاری نتیجہ):
مسلم لیگ (ن) کے ابراہیم ثنائی 10136 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جب کہ پی پی کے عاشق حسین 9498 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 23 گانچھے ٹو (سرکاری نتیجہ):
آزاد امیدوار انور علی 12117 ووٹ لے کر جیت گئے جب کہ آزاد امیدوار حاجی عبدالحمید 4197 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 24 گانچھے 3 (غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج):
آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق 8092 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ پی پی کے انجینئر محمد اسماعیل 5072 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی مجموعی طور پر 33 نشستوں پر مشتمل ہے، 24 نشستوں پر براہِ راست انتخابات ہوئے، 6 نشستیں خواتین جبکہ 3 ٹیکنوکریٹس کیلیے مختص ہیں۔
گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت لامی درکار ہوگی، یہاں 9 لاکھ 63 ہزار، پانچ لاکھ 6 ہزار مرد اور 4 لاکھ 56 ہزار خواتین ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
