بھارت میں طلبہ کے احتجاج پر مودی نے خاموشی توڑ دی، موقف آگیا
بھارت میں طلبہ کے احتجاج پر لمبی خاموشی کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے پرچہ لیک کرنے کے ذمہ داروں کو سزا دینے کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج عالمی توجہ حاصل کرگیا، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے اسکینڈل پر ملک گیر شدید احتجاج کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی طویل خاموشی توڑ دی ہے۔
طلبہ کی جانب سے شروع کی جانے والی تحریک اور دارالحکومت نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے بعد مودی حکومت نے اپنا پینترا بدلتے ہوئے طلبہ کے حق میں اہم اعلانات کیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان کہا کہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے نے اعلان کیا امتحانی پرچے لیک کرنے والے ذمہ داروں کو سخت اور فوری سزائیں دینے کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ملک کے امتحانی نظام میں بڑی اصلاحات لائی جائیں گی۔
دوسری جانب، احتجاج کی قیادت کرنے والی "کاکروچ جنتا پارٹی” کے ترجمان نے وزیر اعظم کے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ جب تک ملک کے وزیرِ تعلیم اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہو جاتے، تب تک دھرنا اور احتجاجی تحریک اسی طرح جاری رہے گی۔
خیال رہے بھارت میں جاری تحریک کا دائرہ کار اب نئی دہلی سے نکل کر ممبئی اور بھارت کے دیگر بڑے شہروں تک پھیل چکا ہے، جہاں لوگ اور طلبہ بے خوف ہو کر سڑکوں پر نکل رہے ہیں
