دنیا

غزہ میں بچوں کے قاتل اسرائیلی فوجی کے اعترافات

عبری زبان کے معروف اسرائیلی اخبار ہآرٹز نے غزہ کی پٹی میں بھوک و پیاس سے بلکتے معصوم بچوں اور نہتے شہریوں کے قاتل کا اعترافی بیان شائع کیا ہے جس میں صہیونی قاتل کا کہنا ہے کہ اسے راتوں کو غزہ کے بچوں کی لاشیں نظر آتی ہیں اور وہ خوف کے مارے سو تک نہیں پاتا اور اپنا بستر گیلا کر دیتا ہے۔ ہآرٹز کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں، غزہ کے بچوں کے قاتل اسرائیلی اسنائپر شوٹر کا کہنا تھا کہ میں غزہ کی پٹی میں ہر روز خوراک و امداد کی تقسیم کے امریکی-اسرائیلی مراکز کے قریب کھڑا رہتا اور ہر اُس شخص کو گولی کا نشانہ بناتا تھا جو مخصوص رستے سے ہٹ کر کسی بھی دوسرے راستے سے ان مراکز تک پہنچنے کی کوشش کرتا تھا۔ 

اسرائیلی قاتل نے کہا کہ اگر میں کبھی گولی چلانے سے ہچکچا جاتا تو میرا کمانڈر: "اسے مار دو… مار دو” چلاتے ہوئے مجھے گولی چلانے پر مجبور کر دیتا تھا۔ اسرائیلی فوجی کہ جس کا نام اس رپورٹ میں ظاہر نہیں کیا گیا، نے زور دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اب تک اپنے ہاتھوں مارے جانے والوں کی تعداد نہیں گنی، تاہم میں اس بات کا برملاء اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ میرے ہاتھوں قتل ہونے والوں کا ایک بڑا حصہ "بچے” تھے! صیہونی رپورٹ کے مطابق مذکورہ اسرائیلی اسنائپر شوٹر غزہ جنگ میں شمولیت کے کچھ عرصے بعد ہی ذہنی بیماریوں کا شکار ہو کر اسرائیلی فوج سے استعفی دینے پر مجبور ہو گیا تھا جس کا مزید کہنا تھا آج مجھے "فلسطینی بچوں کی لاشوں” کی بو آتی ہے.. میں رات کو سو تک نہیں پاتا اور خوف کے مارے اپنا بستر گیلا کر دیتا ہوں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے