ایران پر جنگ مسلط کرنے کے بعد بحری نقل و حمل کے اخراجات میں 80 فیصد اضافہ
فروری کے آخری دن سے یعنی ایران پر امریکہ اور صیہونی حکومت نے جس دن جارحیت کا آغاز کیا، بحری نقل و حمل کی قیمتوں میں 80 فیصد اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔
نقل و حمل کے ماہرین کے مطابق کنٹینروں کی اسپاٹ پرائس 80 فیصد بڑھ چکی ہے اور بحری جہازوں کے ایندھن کی قیمت میں اضافہ اور ایندھن سے مربوط دیگر اخراجات کے بڑھ جانے کے نتیجے میں، نقل و حمل کے ریٹ پر مزید دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں نقل و حمل کا حجم 90 فیصد کم ہوچکا ہے اور بحیرہ احمر کے کوریڈور پر دباؤ بڑھنے کے نتیجے میں مصنوعات کی ترسیل کی رفتار کم، تجارتی راستے تبدیل اور مختلف پیداوار اور مصنوعات کی خریداری کا سلسلہ درہم برہم ہوگیا ہے۔
Drewry بحری تحقیقاتی مرکز نے World Container Index کے جدید اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 40 فٹ کے کنٹینر کا کرایہ بڑھ کر اوسطا 3300 ڈالر ہوگیا ہے جو کہ گزشتہ 26 فروری کو 1900 ڈالر تھا۔
ماہرین قیمتوں میں قابل ذکر اضافے کی اصل وجہ ٹرانس پیسیفک اور ایشیا- یورپ بحری شاہراہوں پر موجود کنٹینروں کی تعداد اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کی رفتار میں شدید کمی قرار دے رہے ہیں
