حوثی حملوں نے پرانی ایرانی اور اسرائیلی تیل پائپ لائن کو دوبارہ تنازعہ کا مرکز بنا دیا
میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے تازہ حملوں کے باعث تیل برآمدات کو درپیش خطرات کے بعد اسرائیل میں موجود ایک پرانی خفیہ آئل پائپ لائن دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے جسے ماضی میں ایران اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر تعمیر کیا تھا۔
میڈیا این ڈی ٹی وی پر ایک تجزیاتی رپورٹ شائع کی گئی ہے جس میں متعدد دعوے شامل ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان خفیہ پائپ لائن 254 کلومیٹر طویل ہے جسے 1960ء کی دہائی میں ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں بنایا گیا تھا
اس پائپ لائن کا مقصد ایرانی خام تیل کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ایلات سے اسرائیل کے شہر اشکلون پہنچا کر وہاں سے یورپ بھیجنا تھا تاکہ نہر سویز کے استعمال سے بچا جا سکے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ختم ہو گئے اور پائپ لائن کا کنٹرول اسرائیل نے سنبھال لیا۔
بعد ازاں ایک سوئس ثالثی عدالت نے اسرائیل کو ایران کو 1.1 ارب ڈالرز ادا کرنے کا حکم دیا تاہم اسرائیل نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیل کو یورپ پہنچانے کے لیے بحیرۂ احمر کی باب المندب آبنائے سے گزرنا اب بھی ضروری ہے جہاں حوثیوں کے حملوں کا خطرہ برقرار ہے
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ تیل کو بحری جہازوں کے ذریعے ایلات پہنچا کر وہاں سے اسرائیل کی پائپ لائن کے ذریعے اشکلون منتقل کیا جا سکتا ہے جہاں سے اسے بحیرۂ روم کے راستے یورپ بھیجا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پائپ لائن خود بھی سیکیورٹی خطرات سے دوچار ہے اور ماضی میں تکنیکی خرابیوں، تخریب کاری اور راکٹ حملوں کا سامنا کر چکی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیاسی طور پر بھی یہ منصوبہ انتہائی حساس تصور کیا جا رہا ہے
