مجتبیٰ خامنہ ای کی صدر ٹرمپ سے ملاقات نہیں ہوگی، محسن رضائی
تہران (07 جون 2026): محسن رضائی نے کہا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں ہوگی۔
ایرانی رہبر اعلیٰ کے سینیئر فوجی مشیر محسن رضائی نے سی این این کو انٹرویو میں کہا ایران امریکا مذاکرات صدر ٹرمپ کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں، امریکا نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم نہ کی تو جنگ بحرِ ہند، باب المندب، بحیرہ احمر اور بحیرہ روم تک پھیلا دیں گے۔
تہران میں خصوصی انٹرویو کے دوران سی این این کے فریڈ پلیٹگن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر فوجی مشیر محسن رضائی سے گفتگو کی۔ سپریم لیڈر، جو اپنی تقرری کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، اپنے اردگرد چند قابلِ اعتماد معاونین کا ایک محدود حلقہ رکھتے ہیں۔ جنرل رضائی اسی قریبی حلقے کے رکن ہیں۔
انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے درمیان کسی بھی ممکنہ ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا۔ اور یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کا انحصار اس بات پر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے منجمد شدہ 24 ارب ڈالر کے اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہو۔
محسن رضائی نے سپریم لیڈر کی صحت اور ملکی فیصلوں میں ان کے کردار سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا، لیکن ٹرمپ اور خامنہ ای کی ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا۔ انھوں نے کہا ’’ایسا نہیں ہوگا۔ اس وقت ہم مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور مسٹر ٹرمپ نے مذاکرات کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔ یہ ملاقات نہیں ہوگی۔‘‘
اس ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے اور خامنہ ای کے تعلقات ’’کافی اچھے‘‘ لگتے ہیں اور وہ ان سے ملاقات کرنا اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھیں گے۔
