بھارت میں گائے کی قربانی پر پابندی: مذہبی آزادی اور معاشی بحران کے درمیان نئی کشمکش
بھارت میں گائے کی قربانی پر پابندی: مذہبی آزادی اور معاشی بحران کے درمیان نئی کشمکش
نئی دہلی: بھارت کی متعدد ریاستوں میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر گائے سمیت دیگر جانوروں کی قربانی پر پابندیوں نے ملک بھر میں شدید سیاسی اور مذہبی تناؤ کو جنم دے دیا ہے۔ ان پابندیوں کے خلاف نہ صرف مسلم تنظیمیں بلکہ ہندو مویشی فروش اور سیاسی جماعتیں بھی میدانِ عمل میں آگئی ہیں۔
اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے گائے، اونٹ سمیت دیگر جانوروں کی قربانی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ ریاست میں کھلی جگہ پر نماز کی ادائیگی اور جانور ذبح کرنے پر بھی روک لگا دی گئی۔ اسطرح مغربی بنگال میں بھی پابندی لگائی گئی ھے ۔۔
اس پابندی نے ریاست میں معاشی بحران پیدا کر دیا ہے۔ متعدد ہندو مویشی فروش، خاص طور پر گوالہ یا گوپا برادری کے لوگ، شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک تاجر نے بتایا: "ہم نے عید کے بازار کے لیے بینک سے قرضے لیے تھے، اب جانور بک نہیں پا رہے اور ہمیں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے”۔
یاد رھے کہ عید پر قربانی تو مسلمان کرتے ہیں مگر پیوپاری سارے ھندؤ برادری کے لوگ ہیں ۔ اس وقت ھندو برادری کے لوگ احتجاج کر رھے ہیں کہ گائے کی قربانی سے پابندی ھٹائی جائے ورنہ ھم معاشی طور پر برباد ھو جائے گئے ۔۔۔ جبکہ اس وقت کوئی مسلمان گائے کی قربانی کرنے کو تیار نہیں ھے ۔
دوسری طرف مسلمانوں کے کچھ گروہ نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کر دیا ھے کہ جس طرح مور قومی پرندہ ھے اسطرح گائے کو قومی جانور کا درجہ دیا جائے۔
