شہید رہبر انقلاب کمال شجاعت کے ساتھ فرماتے تھے مطمئن رہئے کامیابی آپ کی ہے
تہران – شہید رہبر انقلاب اسلامی کے دفتر کے سربراہ نے شہید امام خامنہ ای کی ذاتی اور خاندانی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض فوجی عہدیداران جب آکر آپ کو رپورٹ پیش کرتے تھے، تو آپ کمال شجاعت کے ساتھ کہتے تھے، کوئي مشکل نہیں ہے، مطمئن رہیں آپ کامیاب ہیں
میڈیا کے مطابق حجت الاسلام والمسلمین محمد محمدی گلپائگانی شہید رہبرانقلاب اسلامی کے قریبی ترین لوگوں میں تھے۔ وہ تقریبا چالیس برس شہید امام خامنہ ای کے ساتھ رہے، آپ کی مکمل اور ہمہ گیر شناخت کے امکانات ان کے لئے فراہم تھے۔
خامنہ ای ڈاٹ آئی آر(KHAMENEI.IR ) میڈیا ہاؤس نے ان کے ساتھ شہید رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سیدعلی خامنہ ای کی ذاتی اور خاندانی خصوصیات کے بارے میں گفتگو کی ہے۔
یہ انٹرویو شہید رہبر انقلاب کی شہادت کے بعد ابتدائی ایام میں انجام پایا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین محمد محمدی گلپائگانی نے اس انٹرویو میں کہا کہ چونکہ ميں ذاتی طورپر آپ سے بہت مانوس تھا اور آپ سے رابطے میں تھا، اس لئے ان آخری دو تین مہینوں ميں دیکھا کہ آپ خود کو تیار کررہے ہیں؛ بعض اوقات یہ محسوس ہوتا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ” جب بھی بعض فوجی افسران آتے تھے اور آپ کو رپورٹ پیش کرتے تھے تو آپ کمال شجاعت کے ساتھ فرماتے تھے کہ کوئی مشکل نہیں ہے، مطمئن رہیں، آپ کامیاب ہیں” اور اپ کی بات ان حضرات کے لئے موثر واقع ہوتی تھی۔
شہید رہبر انقلاب امام سید علی خامنہ ای کے دفتر کے سربراہ نے کہا کہ ” آپ ہمیشہ شوق شہادت کا اظہار کرتے تھے۔ یہ شعر یاد ہے جو آپ نے ایک جلسے میں پڑھا تھا؟ کہ
ما مدعیان صف اول بودیم ازاخرمجلس شہدا را چیدند
( ہم تو صف اول میں تھے لیکن فرد شہدا آخر سے تیار کی)
انھوں نے بتایا کہ شہید رہبر نے یہ شعر پڑھا تو آپ کا گلا رندھ گیا اوراس کے بعد آپ خاموش ہوگئے۔ ایک بار شہادت کی بات آئی تو میں نے کہا آقا آپ کے لواحقین ہیں، ان کی خوشی آپ سے وابستہ ہے تو آپ نے کہا: ” ان شاء اللہ ہم سب ایک ساتھ شہید ہوں گے۔”
یہ میری نواسی کی تصویر ہے، اچھی طرح دیکھیں، اچھی طرح دکھائيں، فرشتہ ہے۔ یہ بچی اس وقت زمین کے نیچے ہے؛ شاید اپنی ماں کے سینے پرہو۔ اس کی خطا کیا تھی؟ "وَ اِذَا المَوءودَة سُئِلَت بِاَیِّ ذَنبٍ قُتِلَت”.
ان آخری چند مہینوں ميں آقا کی خوشی اسی بچی سے وابستہ تھی۔ میں جب آپ کی خدمت میں جاتا تھا تو پوچھتا تھا کہ زہرا خانم کیسی ہیں؟ اس بچی کا نام زہرا تھا، ہنس کے کہتے تھے ما شاء اللہ بہت شریرہوگئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ دو عوامل تھے جنہوں نے آپ کو باقی رکھا تھا، یہ میرے لئے بالکل واضح تھا۔ ایک خدا پر توکل اور امید کہ خدا نے جو فرمایا ہے اس کو پورا کرے گا: : اِن تَنصُرُوا اللّہ یَنصُرکُم؛ خدا پر غیر معمولی توکل تھا
